اب کے سال

Sunday, January 01, 2006


اب کے سال کچھ ایسا کرنا
اپنے گزرے بارہ ماہ کے
دکھ سکھ کا اندازہ کرنا
سادہ سا اک کاغز لے کر
بھولے بسرے پل لکھ لینا
اپنے سارے کل لکھ لینا
پھر اس بیتے ایک ایک پل کا
اپنے گزرے ایک ایک کل کا
ایک ایک موڑ کا احاطہ کرنا
سارے صحبتیں حاضر کرنا
ساری شامیں پاس بلانا
اور علاوہ ان کے دیکھو۔۔۔۔۔
سارے موسم دھیان میں رکھنا
ایک ایک یاد گمان میں رکھنا
پھر محتاط قیاس لگانا
گر تو خوشیاں بڑھ جاتی ہیں
تو پھر تم کو میری طرف سے
آنے والا سال مبارک
اور گر غم بڑھ جاءیں تو
مت بےکار تکلف کرنا
دیکھو تم ایسا کرنا
میری ساری خوشیاں تم لے لینا
مجھ کو سارے غم دے دینا
اب کے سال کچھ ایسا کرنا
آج ایک اور برس بیت گیا اس کے بغیر
جس کے ہوتے ہوءے تھے زمانے میرے


probed by Yasir Hussain at 3:10 AM

2 probes

2 Comments

at January 14, 2006 12:32 AM Blogger Asma said...

Beautiful Post!

 
at November 07, 2006 6:53 AM Anonymous iceCube said...

بہت خوبصورت ہے۔

Who wrote this?

 

Post a Comment